26 اگست 2026 - 00:01
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 3 + ویڈیو

قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ؛ سورہ جمعہ کی آیات 1 تا 8، ایک طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مقامِ رسالت اور آپ کے مشن کا نقشہ پیش کرتی ہیں، اور دوسری طرف اس قوم کا انجام واضح کرکے دکھاتی ہیں جو کتاب کی مالک تو ہے مگر اس کی حقیقت سے فائدہ نہیں اٹھاتی۔

تیسری اور آخری قسط:

اللہ سے قربت کا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے ایک سادہ سا امتحان

چھٹی آیات یہودیوں کے اللہ کی ولایت اور قربت کے دعوے کو چیلنج کرتی ہیں: "قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ؛ کہئے: اے یہودیت اختیار کرنے والو! اگر تم یہ گمان رکھتے ہو کہ تم تمام دوسروں کو چھوڑ کر، اللہ سے خاص لگاؤ رکھنے والے ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔"

قرآن صرف دعویٰ کرنے کو کافی نہیں سمجھتا؛ بلکہ دعوے کو انسان کے اندرونی حقیقت سے پرکھتا ہے۔ اگر کوئی واقعی، خود کو، اللہ کا ولی اور اس سے خاص تعلق اور لگاؤ رکھنے والا سمجھتا ہے تو اسے موت اور اللہ کی طرف لوٹنے سے گریزاں نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن ساتویں آیت فوراً کہتی ہے: "وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ؛ اور وہ اس [موت] کی تمنا ہرگز نہیں کریں گے، ان اعمال کی وجہ سے جو وہ اس سے پہلے کرتے رہے ہیں۔"

موت، وہ حقیقت جس سے کوئی بھی نہیں بھاگ سکتا

آٹھویں آیت اس حصے کا اختتامی نقطہ ہے: "قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ؛ کہئے کہ یقیناً موت ـ جس سے تم بھاگتے ہو، ـ وہ تمہیں ضرور آ ملے گی۔"

موت ایسی چیز نہیں جس سے انسان انکار، نعرے یا بھاگ کر بچ سکے۔ "ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ؛ پھر تم سب اس ذات کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو ان دیکھی اور دیکھی سب باتوں کا جاننے والا ہے"؛ "فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ؛ تمہیں بتائے گا ان اعمال کو جو تم کیا کرتے تھے۔" اور یہی وہ مقام ہے جب انسان کے اعمال کی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے۔

اس زاویئے سے، سورہ جمعہ کی آیات 1 تا 8 ایک واضح سلسلے کو ترتیب دیتی ہیں؛ خدائے حکیم نبی کو ہدایت کے لئے بھیجتا ہے؛ نبی ان پر آیات کی تلاوت کرتا ہے، انسان کو پاک و پاکیزہ بنا دیتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، لیکن انسان اس ہدایت کے مقابلے میں ذمہ دار ہے۔

کتاب کا حامل ہونا عمل کے بغیر، ایمان کا دعویٰ صداقت کے بغیر، اور موت کی حقیقت سے فرار، ـ ان میں سے کوئی بھی انسان کو حتمی قیقتِ سے نجات نہیں دلاتا۔ ان آیات کا اصل پیغام شاید ایک جملے میں یہ ہو کہ ہدایت کی قیمت اس وقت ہے جب انسان کو "جاننے" سے "بننے" تک پہنچائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

قرآن کریم کے صفحہ 553 پر ان آیات کو دیکھیں اور سنیں:

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha